المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْحَاقَّةِ باب: سورہ الحاقہ۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا عِمْرَانُ أَبُو الْهُذَيْلِ ، أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ الْآيَةَ ، قَالَ : هُوَ أَرْبَعَةٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يَحْمِلُونَهُ عَلَى أَكْتَافِهِمْ ، لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ وُجُوهٍ : وَجْهُ ثَوْرٍ ، وَوَجْهُ أَسَدٍ ، وَوَجْهُ نَسْرٍ ، وَوَجْهُ إِنْسَانٍ ، لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ أَجْنِحَةٍ : فَأَمَّا جَنَاحَانِ فَعَلَى وَجْهِهِ ; مَخَافَةَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى الْعَرْشِ فَيُصْعَقَ ، وَأَمَّا جَنَاحَانِ فَيْنَتَهِضُوا بِهِمَا ، لَيْسَ لَهُمْ كَلَامٌ إِلَّا : قَدِّسُوا اللهَ الْقَوِيَّ الْعَلِيَّ ، قَدْ مَلَأَتْ عَظَمَتُهُ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ .
هَذَا مَوْقُوفٌ ، ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ .وہب بن منبہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ﴾ [سورة الحاقة: 17] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اس سے مراد چار فرشتے ہیں جنہوں نے اسے (عرش کو) اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے، ان میں سے ہر ایک کے چار چہرے ہیں: ایک بیل کا چہرہ، ایک شیر کا چہرہ، ایک عقاب کا چہرہ اور ایک انسان کا چہرہ ہے، نیز ان میں سے ہر ایک کے چار پر (بازو) ہیں: جن میں سے دو پر تو ان کے چہروں کے سامنے رہتے ہیں اس اندیشے سے کہ کہیں ان کی نظر عرش پر نہ پڑ جائے اور وہ (ہیبت سے) بے ہوش ہو جائیں، جبکہ بقیہ دو پروں سے وہ پرواز کرتے (یا حرکت کرتے) ہیں، ان کی زبان پر اس کے سوا کوئی کلام نہیں ہوتا: «قَدِّسُوا اللهَ الْقَوِيَّ الْعَلِيَّ، قَدْ مَلَأَتْ عَظَمَتُهُ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» ”تم اس اللہ کی پاکیزگی بیان کرو جو نہایت قوت والا اور بڑی بلندی والا ہے، جس کی عظمت و بزرگی نے آسمانوں اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا ہے۔““
یہ روایت موقوف ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔