المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الطَّلَاقِ باب: سورۃ الطلاق۔
حدیث نمبر: 3759
أَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ : وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ - قَالَ : الْفَاحِشَةُ الْمُبَيِّنَةُ : أَنْ تُسَفِّهَ عَلَى أَهْلِهَا ، فَإِذَا فَعَلَتْ ذَلِكَ حَلَّ لَهُمْ إِخْرَاجُهَا .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ” «الْفَاحِشَةُ الْمُبَيِّنَةُ» (کھلی بے حیائی) سے مراد یہ ہے کہ وہ (مطلقہ عورت دورانِ عدت) اپنے سسرال والوں کے ساتھ بدزبانی اور بدتمیزی کرے؛ پس جب وہ ایسا (نازیبا رویہ اختیار) کرے تو ان کے لیے اسے (گھر سے) نکال دینا حلال و جائز ہو جاتا ہے۔“
اس روایت کی سند حسن ہے اور اسے امام نسائی نے السنن الکبریٰ میں روایت کیا ہے۔