❮
❯
حدیث نمبر: 3756
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ .
3756 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : ثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، ثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : قَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : كَتَبَ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ كِتَابًا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ ، فَأَطْلَعَ اللهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فِي إِثْرِ الْكِتَابِ ، فَأَدْرَكَا الْمَرْأَةَ عَلَى بَعِيرٍ ، فَاسْتَخْرَجَاهُ مِنْ قُرُونِهَا ، فَأَتَيَا بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى حَاطِبٍ ، فَقَالَ : يَا حَاطِبُ ، أَنْتَ كَتَبْتَ هَذَا الْكِتَابَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَمَا وَاللهِ إِنِّي لَنَاصِحٌ لِلهِ تَعَالَى وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنْ كُنْتُ غَرِيبًا فِي أَهْلِ مَكَّةَ ، وَكَانَ أَهْلِي بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ ، وَخَشِيتُ ; فَكَتَبْتُ كِتَابًا لَا يَضُرُّ اللهَ وَرَسُولَهُ شَيْئًا ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ مَنْفَعَةً لِأَهْلِي ، قَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَمْكِنِّي مِنْ حَاطِبٍ ; فَإِنَّهُ قَدْ كَفَرَ ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، مَا يُدْرِيكَ ، لَعَلَّ اللهَ اطَّلَعَ عَلَى هَذِهِ الْعِصَابَةِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ; فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ . إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .
وَذَكَرَ الْحُمَيْدِيُّ عَنِ الْبَرْقَانِيِّ أَنَّ مُسْلِمًا أَخْرَجَهُ .
قَالَ الْحُمَيْدِيُّ : وَلَمْ يَذْكُرْهُ خَلَفٌ ، وَلَا أَبُو مَسْعُودٍ .
قُلْتُ : أَخْرَجَ مُسْلِمٌ بِهَذَا السَّنَدِ عِدَّةَ أَحَادِيثَ غَيْرَ هَذَا .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کے نام ایک خط لکھا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس معاملے پر مطلع فرما دیا، چنانچہ آپ ﷺ نے سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کو اس خط کے تعاقب میں روانہ فرمایا۔ ان دونوں نے اس عورت کو جا لیا جو اونٹ پر سوار (خط لے جا رہی) تھی، پھر انہوں نے وہ خط اس کے بالوں کی مینڈھیوں سے برآمد کیا اور اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے حاطب رضی اللہ عنہ کو بلوا کر دریافت فرمایا: ”اے حاطب! کیا یہ خط تم نے لکھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں اس فعل پر کس چیز نے ابھارا؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا مخلص اور خیر خواہ ہوں، لیکن مکہ میں میرا کوئی خاندانی جتھا یا پشت پناہ نہ تھا جبکہ میرے اہل و عیال انہی لوگوں کے درمیان مقیم تھے، پس میں (ان کی جان و مال کے حوالے سے) ڈر گیا؛ چنانچہ میں نے ایک ایسا خط لکھ دیا جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا، اور (میرا مقصد یہ تھا کہ) شاید یہ میرے گھر والوں کے لیے (اہلِ مکہ کے شر سے بچاؤ کا) فائدہ مند ثابت ہو جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) اپنی تلوار سونت لی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے حاطب پر قابو دیجیے تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں، کیونکہ اس نے کفر (جیسا عمل) کیا ہے۔ تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ابن خطاب! تمہیں کیا معلوم، شاید اللہ تعالیٰ نے اہلِ بدر کے حال پر مطلع ہو کر فرما دیا ہو: تم جو چاہو عمل کرو، میں نے یقیناً تمہیں بخش دیا ہے۔“
اس کی سند صحیح ہے۔ امام حمیدی نے برقانی کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ امام حمیدی کہتے ہیں کہ اسے خلف اور ابومسعود نے ذکر نہیں کیا۔ میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ امام مسلم نے اسی سند کے ساتھ اس کے علاوہ بھی کئی احادیث کی تخریج کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3756
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: أَخْرَجَ مُسْلِمٌ بِهَذَا السَّنَدِ عِدَّةَ أَحَادِيثَ غَيْرَ هَذَا . »
«أخرجه مسند البزار برقم: 197، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2668، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 15661، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 174، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6823»