المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْمُنَافِقِينَ باب: سورہ المنافقون۔
قَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ثَنَا أَبُو هَارُونَ الْمَدَنِيُّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ لِأَبِيهِ : وَاللهِ لَا تَدْخُلُ الْمَدِينَةَ أَبَدًا حَتَّى تَقُولَ : رَسُولُ اللهِ الْأَعَزُّ ، وَأَنَا الْأَذَلُّ ، قَالَ : وَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَ أَبِي ، فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا تَأَمَّلْتُ وَجْهَهُ قَطُّ هَيْبَةً لَهُ ، وَلَئِنْ شِئْتَ أَنْ آتِيَكَ بِرَأْسِهِ لَآتِيَنَّكَ بِهِ ; فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَرَى قَاتِلَ أَبِي .ابو ہارون مدنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عبداللہ بن ابی ابن سلول رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے کہا: ”اللہ کی قسم! تم مدینہ میں اس وقت تک ہرگز داخل نہیں ہو سکو گے جب تک کہ تم یہ (اعتراف) نہ کر لو کہ: اللہ کے رسول ﷺ سب سے زیادہ صاحبِ عزت ہیں اور میں سب سے زیادہ ذلیل و خوار ہوں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ میرے والد کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں نے ان کے رعب و دبدبے کی وجہ سے آج تک کبھی ان کے چہرے کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھا، لیکن اگر آپ چاہیں کہ میں خود ان کا سر کاٹ کر آپ کی خدمت میں لے آؤں تو میں یقیناً ایسا کر گزروں گا؛ کیونکہ میں اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہوں کہ اپنے باپ کے قاتل کو (زندہ) دیکھوں۔“
امام حمیدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابو ہارون مدنی نے یہ روایت نقل کی ہے۔