المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْمُمْتَحَنَةِ باب: سورہ الممتحنہ۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ .
3755 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ السَّامِيُّ ، ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - طَلَّقَ امْرَأَتَهُ قُتَيْلَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَهِيَ أُمُّ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فَقَدِمَتْ عَلَيْهِمْ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ كُفَّارِ قُرَيْشٍ ، فَأَهْدَتْ إِلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قُرْطًا وَأَشْيَاءَ ، فَكَرِهَتْ أَنْ تَقْبَلَ مِنْهَا ، حَتَّى أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : لا يَنْهَاكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ . لَفْظُ أَبِي دَاوُدَ .
وَفِي رِوَايَةِ الْآخَرِ : قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ أَسَدٍ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حِسْلٍ عَلَى بِنْتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - بِهَدَايَا : ضِبَابٍ ، وَسَمْنٍ ، وَأَقِطٍ ، فَلَمْ تَقْبَلْ هَدَايَاهَا ، وَلَمْ تُدْخِلْهَا بَيْتَهَا ، فَسَأَلَتْ لَهَا عَائِشَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَنْهَاكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ - الْآيَةَ ، فَأَدْخَلَتْهَا مَنْزِلَهَا ، وَقَبِلَتْ هَدَايَاهَا .سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں اپنی زوجہ قتیلہ کو طلاق دے دی تھی، جو سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی والدہ تھیں، پھر وہ اس درمیانی مدت (صلحِ حدیبیہ) کے دوران ان کے پاس آئیں جو رسول اللہ ﷺ اور کفارِ قریش کے مابین طے تھی، وہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے لیے کانوں کے بندے اور کچھ دیگر اشیاء بطورِ تحفہ لائیں، لیکن انہوں نے وہ قبول کرنے سے احتراز کیا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اس کا تذکرہ کیا، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ﴾ [سورة الممتحنة: 8]، یہ ابوداؤد کے الفاظ ہیں۔
اور دوسری روایت میں ہے کہ قتیلہ بنت عبدالعزیٰ بن اسد، جن کا تعلق بنو مالک بن حسل سے تھا، اپنی صاحبزادی سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ تحائف لے کر آئیں جن میں ساہنے (گوہ کا گوشت)، دیسی گھی اور خشک پنیر شامل تھا، لیکن انہوں نے ان کے تحائف قبول نہیں کیے اور نہ ہی انہیں گھر میں داخل ہونے دیا، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی خاطر نبی کریم ﷺ سے اس معاملے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ (بھلائی کرنے سے) نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے لڑائی نہیں کی“ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ﴾ [سورة الممتحنة: 8]، چنانچہ اس کے بعد انہوں نے اپنی والدہ کو گھر میں داخل کیا اور ان کے ہدیے بھی قبول کر لیے۔