المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ فِي فَضْلِ مُلَازَمَةِ الْمَسْجِدِ باب: مسجد کی پابندی کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ - هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْحُبُلِيُّ - ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سِتُّ مَجَالِسَ مَا كَانَ الْمُسْلِمُ فِي مَجْلِسٍ مِنْهَا إِلَّا كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللهِ تَعَالَى : فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَوْ مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ ، أَوْ عِنْدَ مَرِيضٍ ، أَوْ يَتْبَعُ جِنَازَةً ، أَوْ فِي بَيْتِهِ ، أَوْ عِنْدَ إِمَامٍ مُقْسِطٍ يُعَزِّرُهُ وَيُوَقِّرُهُ " .
374 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ [ بْنُ حُمَيْدٍ ] : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، بِهِ .
374 \ 3 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ ، بِهِ .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”چھ مجلسیں یا مقامات ایسے ہیں کہ جب بھی کوئی مسلمان ان میں سے کسی ایک میں موجود ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ضمانت اور اس کی پناہ میں ہوتا ہے: اللہ عزوجل کی راہ (جہاد یا خیر) میں ہونا، یا ایسی مسجد میں ہونا جہاں باجماعت نماز ادا کی جائے، یا کسی مریض کی عیادت کے لیے اس کے پاس ہونا، یا جنازے کے پیچھے چلنا، یا اپنے گھر میں (فتنوں سے محفوظ رہنے کے لیے) مقیم رہنا، یا کسی عدل و انصاف کرنے والے حکمران کے پاس اس کی نصرت و تائید کرنے اور اس کی توقیر و عزت بجا لانے کے لیے موجود ہونا۔“
امام عبد بن حمید نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن یزید مقری نے اسی سند کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے۔
امام بزار نے کہا کہ ہم سے مسلم نے اور انہوں نے عبداللہ بن یزید سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ہے۔