المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ فِي فَضْلِ مُلَازَمَةِ الْمَسْجِدِ باب: مسجد کی پابندی کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، قَالَ : [ إِنَّ ] أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِابْنِهِ : يَا بُنَيَّ ، لِيَكُنْ بَيْتُكَ الْمَسْجِدَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْمَسْجِدَ بُيُوتُ الْمُتَّقِينَ ، فَمَنْ كَانَتِ الْمَسَاجِدُ بُيُوتَهُ أَتَمَّ اللهُ لَهُ بِالرَّوْحِ وَالرَّحْمَةِ وَالْجَوَازِ عَلَى الصِّرَاطِ إِلَى الْجَنَّةِ " .سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! تمہارا گھر مسجد ہونی چاہیے (یعنی تم مسجد سے اپنا تعلق ایسا مضبوط کر لو جیسے گھر سے ہوتا ہے)، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک مساجد پرہیزگاروں کے گھر ہیں، پس جس شخص کا اوڑھنا بچھونا مساجد بن جائیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے راحت و سکون، اپنی خصوصی رحمت اور پل صراط سے بخیر و عافیت گزر کر جنت تک پہنچنے کی مکمل ضمانت و کفالت فرماتا ہے۔“ “
اس روایت کی سند میں ایک راوی مبہم (رجل) ہے، تاہم اس مفہوم کی دیگر احادیث المعجم الکبیر للطبرانی اور شعب الایمان للبیہقی میں موجود ہیں جو اس کے معنی کی تائید کرتی ہیں۔