المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الذَّارِيَاتِ باب: سورۂ ذاریات۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ ، ثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنْطِقُونَ خَرَجَ رِجَالٌ بِأَيْدِيهِمُ الْعِصِيُّ فَقَالُوا : أَيْنَ الَّذِينَ كَلَّفُوا رَبَّنَا حَتَّى حَلَفَ ؟ .سیدنا ابوالعلاء بن شخیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشادِ گرامی ﴿فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ﴾ [سورة الذاريات: 23] نازل ہوا، جس کا مفہوم ہے ”پس آسمان اور زمین کے رب کی قسم! یقیناً یہ (رزق کا وعدہ) اسی طرح برحق ہے جیسے تمہارا کلام کرنا (ایک حقیقت ہے)“، تو کچھ لوگ ہاتھوں میں لاٹھیاں لیے (انتہائی جلال اور غیرت کے ساتھ) نکلے اور پکارنے لگے: ”وہ لوگ کہاں ہیں جنہوں نے ہمارے رب کو اس قدر زحمت دی یہاں تک کہ اسے (لوگوں کو یقین دلانے کے لیے) قسم اٹھانی پڑی؟“
اس روایت کو امام احمد بن منیع نے نقل کیا ہے، اس کی سند میں مسعدہ بن الیسع نامی راوی ضعیف ہے، تاہم اس کلام سے مقصود ان لوگوں کی مذمت اور ان پر اظہارِ تاسف ہے جن کی بے یقینی کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو اپنی بات کی تاکید کے لیے قسم کھانا پڑی۔