المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الذَّارِيَاتِ باب: سورۂ ذاریات۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ هُوَ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : مَا نَزَلَتْ آيَةٌ كَانَتْ أَشَدَّ عَلَيْنَا مِنْهَا ، وَلَا أَعْظَمَ عَلَيْنَا مِنْهَا ، قُلْنَا : مَا هَذَا إِلَّا مِنْ سَخْطَةٍ أَوْ مَقْتٍ ، حَتَّى أُنْزِلَتْ : وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ : ذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ .
3727 \ 2 - أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مُعْتَجِرًا بِبُرْدٍ ، مُشْتَمِلًا فِي خَمِيصَةٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ عَلَيْنَا : فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ - اشْتَدَّ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَبْقَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا أَشْفَقَ لِهَلَكَةٍ ، إِذْ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَلَّى عَنْهُمْ ، حَتَّى نَزَلَتْ : وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ ; فَطَابَتْ أَنْفُسُنَا .
3727 \ 3 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، ثَنَا أَيُّوبُ ، فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : أَحْزَنَنَا ذَلِكَ ، فَقُلْنَا : أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَلَّى عَنَّا ، حَتَّى نَزَلَتْ ... وَالْبَاقِي مِثْلُهُ ، وَلَمْ يَقُلْ : فَطَابَتْ أَنْفُسُنَا .
3727 \ 4 - قُلْتُ : رَوَاهُ الْهَيْثَمُ بْنُ كُلَيْبٍ فِي مُسْنَدِهِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ بِهِ ، وَأَتَمَّ مِنْهُ .
وَحَدِيثُ مُجَاهِدٍ عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عِنْدَ أَحْمَدَ فِي مُسْنَدِهِ لِحَدِيثٍ غَيْرِ هَذَا .سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ﴾ [سورة الذاريات: 54] کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہم پر اس سے بڑھ کر کوئی آیت نہ تو زیادہ گراں اور سخت نازل ہوئی اور نہ ہی اس سے زیادہ ہولناک، ہم نے (اپنے جی میں) کہا کہ یہ حکم تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی شدید ناراضگی یا سخت بیزاری کی وجہ سے ہی نازل ہوا ہے، یہاں تک کہ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الذاريات: 55]، جس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ قرآن کے ذریعے نصیحت کرتے رہیں۔“ ایک دوسری روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب یہ آیت ﴿فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ﴾ [سورة الذاريات: 54] نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ کے صحابہ پر یہ معاملہ بہت شاق گزرا اور ہم میں سے ہر شخص اس ڈر سے کانپ اٹھا کہ اب ہماری ہلاکت یقینی ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کو ہم سے اعراض کرنے اور رخ پھیر لینے کا حکم دے دیا گیا ہے، لیکن جب اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الذاريات: 55] تو ہمیں دلی سکون میسر آیا اور ہمارے جی کو قرار آگیا۔ احمد بن منیع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”اس بات نے ہمیں شدید غمزدہ کر دیا تھا اور ہم نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کو ہم سے اعراض کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے“، باقی روایت اسی طرح ہے البتہ اس میں ”ہمارے جی کو قرار آگیا“ کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔
اس روایت کو ہیثم بن کلیب نے اپنی مسند میں اسماعیل بن اسحاق القاضی کے واسطے سے سلیمان بن حرب سے اور انہوں نے حماد بن زید سے زیادہ تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے، جبکہ امام احمد کی مسند میں مجاہد کی علی رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کسی دوسرے واقعے کے متعلق ہے۔