حدیث نمبر: 3725
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ قَالَ : الْبَاسِقَاتُ : الطِّوَالُ ، وَالنَّضِيدُ : الْمُتَرَاكِمُ .ترجمہ
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ﴾ [سورة ق: 10] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا کہ «الْبَاسِقَاتُ» سے مراد ”طویل القامت یعنی خوب لمبے کھجور کے درخت“ ہیں، اور «النَّضِيدُ» سے مراد ”تہہ در تہہ جما ہوا یا ایک دوسرے پر چڑھا ہوا خوشہ“ ہے۔
امام مسدد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمیں ابو الاحوص نے سماک کے واسطے سے اور انہوں نے عکرمہ سے یہ تفسیری قول نقل کیا ہے۔