❮
❯
حدیث نمبر: 3724
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ وَهُوَ ابْنُ عَطِيَّةَ ثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - اسْتَلْقَى فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ ، فَوَضَعَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى ، وَكَانَتِ الْيَهُودُ تَفْتَرِي عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، يَقُولُونَ : إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَغَ مِنَ الْخَلْقِ يَوْمَ السَّبْتِ ، ثُمَّ تَرَوَّحَ ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ فَكَانَ أَقْوَامٌ يَكْرَهُونَ أَنْ يَضَعَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى حَتَّى صَنَعَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
ترجمہ

ابومجلز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے باغات میں سے ایک باغ میں چت لیٹ گئے اور اپنا ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھ لیا، دراصل یہودی اللہ عزوجل پر افترا پردازی کرتے ہوئے یہ کہتے تھے: ”بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ ہفتے کے دن مخلوقات کی تخلیق سے فارغ ہوا اور پھر اس نے راحت و آرام فرمایا“، اس پر اللہ عزوجل نے یہ ارشاد نازل فرمایا: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ﴾ [سورة ق: 38] ”اور بلاشبہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کسی قسم کی تھکن (ماندگی) نے چھوا تک نہیں۔“ چنانچہ کچھ لوگ (یہودیوں کے اس باطل عقیدے کی مشابہت سے بچنے کے لیے) ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھنے کو ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خود ایسا عمل کر کے دکھایا۔
امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی، انہیں عبدالجلیل بن عطیہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے ابومجلز سے یہ روایت نقل کی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3724
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»