المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْحُجُرَاتِ باب: سورہ الحجرات۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا رَوْحٌ - هُوَ ابْنُ عُبَادَةَ - ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَفْدُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، وَكَانَ بَعَثَ إِلَيْهِمُ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ يَأْخُذُ صَدَقَاتِ أَمْوَالِهِمْ بَعْدَ الْوَقْعَةِ ، فَلَمَّا سَمِعُوا بِذَلِكَ خَرَجَ مِنْهُمْ قَوْمٌ رُكُوبًا ، فَقَالُوا : نُفَخِّمُ رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَهْدِيهِ فِي الْبِلَادِ ، وَنُحَدِّثُهُ فَلَمَّا سَمِعَ بِهِمْ رَجَعَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مَنَعُوا صَدَقَاتِهِمْ فَلَمَّا سَمِعُوا بِهِ رَجَعَ أَقْبَلُوا عَلَى أَثَرِهِ حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ، فَصَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ مِنْ صَلَاةِ الْأُولَى ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالُوا : نَعُوذُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ مِنْ غَضَبِهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ ، فَمَا زَالُوا يَعْتَذِرُونَ ، حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ الْآيَةَ .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، (ایک مرتبہ) آپ ﷺ کے پاس بنو مصطلق کا وفد حاضر ہوا، آپ ﷺ نے (غزوۂ مریسیع کے) واقعے کے بعد ولید بن عقبہ کو ان کے اموال کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا، جب بنو مصطلق نے ان کی آمد کی خبر سنی تو ان میں سے کچھ لوگ سوار ہو کر (استقبال کے لیے) نکلے اور کہنے لگے: ”ہم اللہ کے رسول ﷺ کے قاصد کی بھرپور تعظیم و توقیر کریں گے، انہیں اپنے علاقوں کی رہنمائی فراہم کریں گے اور ان سے بات چیت کریں گے۔“ لیکن جب ولید بن عقبہ نے ان کے آنے کی خبر سنی تو وہ (کسی خوف یا غلط فہمی کی بنا پر) واپس مڑ گئے اور آ کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! بنو مصطلق نے اپنی زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے،“ جب ان لوگوں کو پتا چلا کہ وہ واپس چلے گئے ہیں تو وہ بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے روانہ ہوئے یہاں تک کہ مدینہ منورہ پہنچ گئے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہلی نماز (ظہر) میں پہلی صف میں شرکت کی، جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو وہ (عاجزی سے) عرض کرنے لگے: «نَعُوذُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ مِنْ غَضَبِهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ» ”ہم اللہ اور اس کے رسول کی ناراضی سے اللہ اور اس کے رسول ہی کی پناہ چاہتے ہیں،“ وہ مسلسل معذرت پیش کرتے رہے یہاں تک کہ مؤذن عصر کی نماز کے لیے آ گیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾ [سورة الحجرات: 6] یعنی ”اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق شخص کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو اور پھر اپنے کیے پر پچھتانے لگو۔“
اس روایت کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی ضعیف راوی ہے، تاہم اس واقعے کی اصل کتبِ تفسیر اور سیرت میں دیگر شواہد کے ساتھ موجود ہے جو اس آیت کے سببِ نزول کی وضاحت کرتی ہے۔