المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْحُجُرَاتِ باب: سورہ الحجرات۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ وَإِسْحَاقُ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، يَقُولُ : أَتَى نَاسٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ ، فَإِنْ كَانَ نَبِيًّا فَنَحْنُ نَشْهَدُ بِهِ ، وَإِنْ يَكُنْ مَلِكًا عِشْنَا فِي جَنَابِهِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادُونَهُ مِنْ حُجْرَتِهِ : يَا مُحَمَّدُ ، يَا مُحَمَّدُ ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لا يَعْقِلُونَ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنِي ، فَمَدَّهَا ، وَجَعَلَ يَقُولُ : لَقَدْ صَدَّقَ اللهُ قَوْلَكَ يَا زَيْدُ ، لَقَدْ صَدَّقَ اللهُ قَوْلَكَ يَا زَيْدُ .
3722 \ 2 - رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، ثَنَا مُعْتَمِرٌ بِهِ .سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہنے لگے: ”ہمارے ساتھ اس شخص کے پاس چلو، اگر وہ واقعی اللہ کے نبی ہوئے تو ہم ان کی نبوت کی گواہی دیں گے اور اگر وہ محض ایک بادشاہ ہوئے تو ہم ان کے زیرِ سایہ اور پناہ میں زندگی بسر کر لیں گے۔“ میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس جا کر آپ کو اس معاملے کی خبر دے دی، پھر وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے حجرہ مبارک کے باہر سے آوازیں دینے لگے: ”اے محمد! اے محمد!“ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ﴾ [سورة الحجرات: 4] ”بے شک جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں، ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے میرا کان پکڑا اور اسے (شفقت سے) کھینچتے ہوئے فرمانے لگے: «لَقَدْ صَدَّقَ اللهُ قَوْلَكَ يَا زَيْدُ» ”اے زید! یقیناً اللہ نے تمہاری بات کو سچا کر دکھایا ہے“، «لَقَدْ صَدَّقَ اللهُ قَوْلَكَ يَا زَيْدُ» ”اے زید! یقیناً اللہ نے تمہاری بات کی تصدیق فرما دی ہے۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے بھی محمد بن یحییٰ بن ابی سمینہ کے واسطے سے معتمر سے روایت کیا ہے۔