المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْحُجُرَاتِ باب: سورہ الحجرات۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَجُلًا خَاصَمَنِي - يُقَالُ لَهُ سَعْدٌ الْعَنَزِيُّ ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ : لَيْسَ بِالْعَنَزِيِّ ، وَلَكِنَّهُ الزُّبَيْدِيُّ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : قَالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا فَقَالَ : هُوَ الِاسْتِسْلَامُ ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ : لَا ، بَلْ هُوَ الْإِسْلَامُ .مغیرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں ابراہیم نخعی کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ ایک شخص نے مجھ سے (ایک علمی مسئلے پر) بحث و تکرار کی ہے جسے سعد عنزی کہا جاتا ہے، تو ابراہیم نخعی نے (درستگی کرتے ہوئے) فرمایا: ”وہ عنزی نہیں ہے بلکہ وہ زبیدی ہے“۔ (مغیرہ کہتے ہیں کہ) اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا﴾ [سورة الحجرات: 14] کے متعلق یہ موقف اختیار کیا کہ ”اس (أَسْلَمْنَا) سے مراد محض جان بچانے کے لیے ظاہری طور پر مغلوب ہو کر اطاعت قبول کرنا اور ہتھیار ڈال دینا (الاستسلام) ہے“، تو اس پر ابراہیم نخعی نے (رد کرتے ہوئے) فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس سے مراد شرعی دینِ اسلام میں داخل ہونا ہے“۔
مسند اسحاق بن راہویہ: 3734، اس کی سند صحیح ہے اور یہ امام ابراہیم نخعی کا جلیل القدر تفسیری قول ہے۔