❮
❯
حدیث نمبر: 3717
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقْرِئُ شَابًّا ، فَقَرَأَ : أَفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا فَقَالَ الشَّابُّ : عَلَيْهَا أَقْفَالُهَا حَتَّى يُفَرِّجَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقْتَ ، وَجَاءَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ كِتَابًا ، فَأَمَرَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْأَرْقَمِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ كِتَابًا ، فَكَتَبَ لَهُمْ ، فَجَاءَهُمْ بِهِ ، فَقَالَ : أَصَبْتَ ، وَكَانَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَرَى أَنَّهُ سَيَلِي مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - سَأَلَ عَنِ الشَّابِّ ، فَقَالُوا : اسْتُشْهِدَ ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ الشَّابُّ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقْتَ ، فَعَرَفْتُ أَنَّ اللهَ سَيَهْدِيهِ وَاسْتَعْمَلَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَبْدَ اللهِ بْنَ الْأَرْقَمِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَلَى بَيْتِ الْمَالِ .
ترجمہ

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک نوجوان کو قرآنِ مجید پڑھا رہے تھے، جب آپ ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا﴾ [سورة محمد: 24] ”کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں؟“ تو اس نوجوان نے عرض کیا: ”(جی ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ!) ان دلوں پر (غفلت کے) تالے چڑھے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اللہ عزوجل خود ان تالوں کو کھول دے۔“ اس پر نبی کریم ﷺ نے (اس کی بصیرت کی تصدیق کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”تم نے سچ کہا۔“ اسی دوران یمن کے کچھ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ آپ ﷺ انہیں ایک سرکاری مکتوب لکھوا دیں، تو آپ ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان کے لیے تحریر لکھیں، جب وہ اسے لکھ کر لائے تو آپ ﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا: ”تم نے بالکل درست اور ٹھیک لکھا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ رائے رکھتے تھے کہ وہ (عبداللہ بن ارقم) مستقبل میں مسلمانوں کے کسی اہم معاملے کے ذمہ دار بنیں گے۔ پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے اس (باصلاحیت) نوجوان کے بارے میں دریافت کیا (جو قرآن پڑھ رہا تھا)، لوگوں نے بتایا کہ وہ شہید ہو چکا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ نے اس طرح تلاوت فرمائی تھی اور اس نوجوان نے اس طرح جواب دیا تھا، جس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: ”تم نے سچ کہا“، پس میں اسی وقت جان گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے (صراطِ مستقیم کی) ہدایت سے ضرور نوازے گا۔“ نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو بیت المال کا نگران مقرر کر دیا تھا۔
مسند اسحاق بن راہویہ: 3717، اس کی سند میں عروہ بن زبیر کا نبی کریم ﷺ سے براہ راست سماع نہیں ہے، لہٰذا یہ روایت مرسل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3717
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف مرسل »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»