المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْقِتَالِ باب: سورہ قتال۔
قَالَ الْحَارِثُ ابْنُ أَبِي أُسَامَةَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا طَلْحَةُ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُخْرِجَ مِنْ مَكَّةَ : إِنِّي لَأَخْرُجُ مِنْكِ ، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكِ لَأَخْيَرُ بِلَادِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَكْرَمُهُ عَلَيْهِ ، وَلَوْلَا أَنَّ أَهْلَكِ أَخْرَجُونِي مِنْكِ لَمَا خَرَجْتُ ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، إِنْ كُنْتُمْ وُلَاةَ هَذَا الْأَمْرِ بَعْدِي فَلَا تَمْنَعُوا طَائِفًا بِبَيْتِ اللهِ تَعَالَى سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ .
3716 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، ثَنَا طَلْحَةُ بِهِ .
3716 \ 3 - حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : نَا أَبِي ، ثَنَا حَنَشٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ تِلْقَاءَ الْغَارِ ، نَظَرَ إِلَى مَكَّةَ ، فَقَالَ : أَنْتِ أَحَبُّ بِلَادِ اللهِ إِلَيَّ ، وَلَوْلَا أَنَّ أَهْلَكِ أَخْرَجُونِي مِنْكِ لَمْ أَخْرُجْ مِنْكِ ، فَأَعْدَى الْأَعْدَاءِ مَنْ عَدَا عَلَى اللهِ تَعَالَى فِي حَرَمِهِ ، أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ، أَوْ قَتَلَ بِذَحْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِنْ قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ الْآيَةَ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو مکہ مکرمہ سے نکالا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تجھ سے جدا ہو رہا ہوں اور میں بخوبی جانتا ہوں کہ تو اللہ عزوجل کے شہروں میں سب سے بہتر اور اس کی بارگاہ میں سب سے زیادہ معزز و محترم ہے، اگر تیرے باسیوں نے مجھے یہاں سے نہ نکالا ہوتا تو میں تجھے چھوڑ کر کبھی نہ نکلتا۔ اے بنو عبدِ مناف! اگر میرے بعد تم اس (حرم کے) معاملے کے نگران و ذمہ دار بنو، تو بیت اللہ کا طواف کرنے والے کسی بھی شخص کو رات یا دن کے کسی بھی پہر طواف سے ہرگز نہ روکنا۔“ امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند سے یہی روایت نقل کی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی کی ایک اور روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے غار کی جانب روانہ ہوئے تو آپ ﷺ نے مکہ کی طرف (حسرت بھری نظروں سے) دیکھا اور فرمایا: ”تو اللہ کے شہروں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اور اگر تیرے رہنے والوں نے مجھے نہ نکالا ہوتا تو میں تجھ سے کبھی نہ نکلتا۔ یاد رکھو! دشمنوں میں سب سے بڑا دشمن وہ ہے جو اللہ کے حرم میں سرکشی و زیادتی کرے، یا کسی ایسے شخص کو قتل کرے جس نے قتل نہ کیا ہو (یعنی ناحق خون کرے)، یا زمانہ جاہلیت کے خونی انتقام کے طور پر کسی کو قتل کرے۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ﴾ [سورة محمد: 13] ”اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جو قوت میں آپ کی اس بستی سے کہیں زیادہ طاقتور تھیں جس نے آپ کو (ہجرت پر مجبور کر کے) نکال دیا، ہم نے انہیں (ان کے کفر کی وجہ سے) ہلاک کر ڈالا۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں اور امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کے ایک راوی طلحہ بن عمرو متروک ہیں، تاہم مکہ کی فضیلت اور ہجرت والا حصہ دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔