المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الزُّخْرُفِ باب: سورہ زخرف۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ جُنَادَةَ ابْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - الْجَابِيَةَ قَالَ لِمُعَاذٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا مُعَاذُ ، مَا عُرْوَةُ هَذَا الْأَمْرِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : الْإِخْلَاصُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَالطَّاعَةُ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ أَجْرَمَ : مَنِ اعْتَقَدَ لِوَاءً فِي غَيْرِ حَقٍّ ، أَوْ عَقَّ وَالِدَتَهُ ، أَوْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ يَنْصُرُهُ فَقَدْ أَجْرَمَ ، يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ .سیدنا جنادہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مقامِ جابیہ میں تشریف لائے تو انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ”اے معاذ! اس (دین و ریاست کے) معاملے کی مضبوط بنیاد اور اصل گرہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! وہ اللہ کے لیے خلوصِ نیت اور اس کی اطاعت گزاری ہے۔“ پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تین اعمال ایسے ہیں کہ جس نے ان میں سے کوئی ایک بھی کیا وہ مجرم قرار پایا: جس نے ناحق (باطل کی حمایت میں) کوئی جھنڈا بلند کیا، یا جس نے اپنی ماں کی نافرمانی کی، یا جو کسی ظالم کی مدد کرنے کی غرض سے اس کے ساتھ چلا، تو یقیناً اس نے جرم کا ارتکاب کیا۔“ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ﴾ [سورة السجدة: 22] ”بے شک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔“
امام احمد بن منیع نے اسے روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبدالعزیز بن عبید اللہ ضعیف راوی ہے اور اسماعیل بن عیاش کی غیر شامیوں سے روایت میں کلام موجود ہے۔