❮
❯
حدیث نمبر: 3708
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : صَعِدَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَسِّرُ : حم عسق ؟ فَوَثَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فَقَالَ لَنَا : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حم : اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : فَعَيْنٌ ؟ قَالَ : عَايَنَ الْمُشْرِكُونَ عَذَابَ يَوْمِ بَدْرٍ قَالَ : فَسِينٌ ؟ قَالَ : وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ قَالَ : فَقَافٌ ؟ فَجَلَسَ ، فَسَكَتَ ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ تَعَالَى ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ ؟ فَوَثَبَ أَبُو ذَرٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : فَقَافٌ ؟ قَالَ : قَارِعَةٌ مِنَ السَّمَاءِ تُصِيبُ النَّاسَ .
ترجمہ

سیدنا ابو معاویہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور پکار کر فرمایا: ”اے لوگو! کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ کو حروفِ مقطعات ﴿حم عسق﴾ [سورة الشورى: 1-2] کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟“ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مستعدی سے کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”«حم» اللہ عزوجل کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نام ہے“۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا: ”پھر حرفِ «ع» (عین) سے کیا مراد ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اس سے مراد وہ گھڑی ہے جب مشرکین نے جنگِ بدر کے دن عذابِ الٰہی کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیا“۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”پھر حرفِ «س» (سین) کا کیا مفہوم ہے؟“ انہوں نے جواب دیا کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الشعراء: 227] یعنی ”اور عنقریب وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ہے جان لیں گے کہ وہ کس (ہولناک) انجام کی طرف پلٹنے والے ہیں“۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”تو پھر حرفِ «ق» (قاف) کا کیا معنی ہے؟“ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حاضرین سے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا کسی اور نے بھی رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی ہے؟“ اس پر سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ تیزی سے کھڑے ہوئے اور وہی تفسیر بیان کی جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے بھی پوچھا: ”تو پھر حرفِ «ق» (قاف) سے کیا مراد ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”«قَارِعَةٌ مِنَ السَّمَاءِ تُصِيبُ النَّاسَ» یعنی آسمان سے نازل ہونے والی ایک ایسی ہولناک اور کھڑکھڑانے والی آفت جو لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی“۔
اس روایت کو امام ابو یعلی موصلی نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی حسن بن یحییٰ الخشنی کے ضعف اور سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ روایت محدثین کے نزدیک سخت ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3708
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»