المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ حم عسق باب: سورۂ حم عسق۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، ثَنَا دَاوُدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : أَكْثَرَ النَّاسُ عَلَيْنَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ : قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى فَكَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فَكَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَاسِطَةَ النَّسَبِ فِي قُرَيْشٍ ، لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ بُطُونِهِمْ إِلَّا وَقَدْ وَلَدُوهُ ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى : قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ إِلَى مَا أَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ إِلَّا أَنْ تَوَدُّونِي لِقَرَابَتِي مِنْكُمْ ، وَتَحْفَظُونِي لَهَا .
صَحِيحٌ .
وَفِي الْبُخَارِيِّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - مَعْنَاهُ .امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: لوگوں نے اس آیت ﴿قُلْ لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ﴾ [سورة الشورى: 23] کے بارے میں ہم سے کثرت کے ساتھ سوالات کیے، تو میں نے اس سلسلے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا، تو انہوں نے مجھے جواب میں تحریر فرمایا کہ: ”بے شک رسول اللہ ﷺ قریش کے تمام خاندانوں میں نسبی تعلق کی مرکزی کڑی تھے اور قریش کا کوئی بھی قبیلہ ایسا نہ تھا جس کے ساتھ آپ ﷺ کی قرابت داری موجود نہ ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ: ”(اے نبی! قریش سے) کہہ دیجیے کہ میں تم سے اس دعوت پر جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا ہوں کوئی صلہ طلب نہیں کرتا بجز اس کے کہ تم میرے اور تمہارے درمیان موجود رشتہ داری کی بنا پر مجھ سے محبت رکھو اور اسی قرابت داری کی خاطر میری حفاظت و حمایت کرو۔“
یہ حدیث صحیح ہے۔
اور صحیح بخاری میں دوسرے طریق سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے ان ہی معنوں میں یہ روایت موجود ہے۔