المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ حم عسق باب: سورۂ حم عسق۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَبْرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : أَنْتُمُ الْمُؤْمِنُونَ ، وَأَنْتُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ ، وَإِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ يَدْخُلَ مَنْ تُصِيبُونَ مِنْ فَارِسَ وَالرُّومِ الْجَنَّةَ ، إِنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا قُلْتُمْ : أَحْسَنْتَ ، يَرْحَمُكَ اللهُ ، أَحْسَنْتَ ، بَارَكَ اللهُ فِيكَ ، وَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ .سیدنا سلمہ بن سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تم ہی لوگ کامل مؤمن ہو اور تم ہی اہل جنت ہو، اور بے شک مجھے یہ قوی امید ہے کہ فارس اور روم کے وہ لوگ جنہیں تم (اسلام کے زیر اثر) حاصل کرو گے وہ بھی جنت میں داخل ہوں گے، کیونکہ جب ان میں سے کوئی کوئی نیک کام کرتا ہے تو تم (حوصلہ افزائی کرتے ہوئے) کہتے ہو: «أَحْسَنْتَ، يَرْحَمُكَ اللهُ» ”تم نے بہت اچھا کیا، اللہ تم پر رحم فرمائے“ اور تم کہتے ہو: «أَحْسَنْتَ، بَارَكَ اللهُ فِيكَ» ”تم نے عمدہ کام کیا، اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے“، اور اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾ [سورة الشورى: 26] ”اور وہ ان لوگوں کی دعا قبول فرماتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور انہیں اپنے فضل سے مزید عطا کرتا ہے“۔“
اس قول کو امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے شواہد دیگر کتبِ حدیث میں بھی موجود ہیں۔