المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ حم عسق باب: سورۂ حم عسق۔
حدیث نمبر: 3705
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : قَرَأْتُ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ يَزِيدَ الطَّحَّانِ قَالَ : هُوَ مَا قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ الْكُوفِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، وَأَعْطَاهَا فَدَكًا .ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ”جب اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشادِ گرامی ﴿وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ﴾ [سورة الإسراء: 26] ”اور قرابت داروں کو ان کا حق ادا کرو“ نازل ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو طلب فرمایا اور انہیں فدک عطا فرما دیا۔“
اس روایت کو امام ابویعلیٰ نے نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں عطیہ عوفی نامی راوی کی موجودگی کے باعث محدثین کے نزدیک اس کی استنادی حیثیت پر کلام موجود ہے اور اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے۔