المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ حم عسق باب: سورۂ حم عسق۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصَّفِيرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ آيَةً ، ثُمَّ فَسَّرَهَا ، مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، قَالَ : وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَخَذَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِذَنْبِهِ فِي الدُّنْيَا ، فَاللهُ جَلَّ وَعَلَا أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُعِيدَهُ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ ، وَمَا عَفَا اللهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا ، وَيَأْخُذَ مِنْهُ فِي الْآخِرَةِ .
3704 \ 2 - أَخْبَرَنَا يَزِيدُ ابْنُ أَبِي حَكِيمٍ الْعَدَنِيُّ ، ثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذِيابَ بْنَ مُرَّةَ يَقُولُ : بَيْنَمَا عَلِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مَعَ أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ ، إِذْ قَالَ لَهُمْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ وَلَمْ يُبَيِّنْ ، ثُمَّ عَطَفَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : أَلَا أَرَاكُمْ ؟ قَالُوا : مَا كُنَّا نَتَفَرَّقُ حَتَّى تُبَيِّنَ لَنَا مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ فَمَا عَفَا اللهُ تَعَالَى عَنْهُ فَلَنْ يَرْجِعَ ، وَهِيَ فِي حم عسق .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ کو ایک آیت کی تلاوت کرتے اور پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سنا، اور (اس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا:) ”مجھے یہ بات ہرگز پسند نہیں کہ اس آیت کے بدلے مجھے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے وہ مل جائے“، پھر آپ ﷺ نے تلاوت فرمائی: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ [سورة الشورى: 30] یعنی ”اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی (اعمال) کی وجہ سے ہے، اور وہ بہت سے (گناہوں) سے تو درگزر ہی فرما دیتا ہے“۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ عزوجل نے اس کے گناہ کی پاداش میں دنیا ہی میں پکڑ لیا (یعنی اسے سزا دے دی)، تو اللہ جل وعلا اس سے کہیں زیادہ صاحبِ کرم ہے کہ وہ آخرت میں اس پر وہی سزا دوبارہ لوٹائے، اور جس سے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں درگزر فرما دیا تو اللہ اس سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ وہ دنیا میں تو معاف کر دے لیکن آخرت میں اس کا مواخذہ کرے۔“ ایک دوسری سند کے مطابق ذیاب بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے انہیں حدیث سنا رہے تھے کہ اچانک آپ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا...“ پھر آپ کھڑے ہو گئے اور بات واضح نہیں کی، پھر آپ رضی اللہ عنہ واپس مڑے اور فرمایا: ”کیا میں تمہیں (ابھی تک یہیں) دیکھ رہا ہوں؟“ انہوں نے عرض کیا: ”ہم اس وقت تک یہاں سے جدا ہونے والے نہیں تھے جب تک کہ آپ ہمارے سامنے رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی وضاحت نہ فرما دیتے۔“ تب آپ رضی اللہ عنہ نے تلاوت فرمائی: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ [سورة الشورى: 30] اور فرمایا: ”پس اللہ تعالیٰ نے جس (گناہ) سے درگزر فرما دیا تو وہ (اپنے عفو سے) رجوع نہیں کرے گا، اور یہ آیت سورہ حم عسق (الشورى) میں ہے۔“
یہ روایت امام اسحاق بن راہویہ نے عیسیٰ بن یونس اور یزید بن ابی حکیم العدنی کے طرق سے اپنی مسند میں بیان کی ہے۔