❮
❯
حدیث نمبر: 3702
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَأَلَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللهُ
مِنَ الَّذِينَ لَمْ يَشَأْ أَنْ يَصْعَقَهُمْ ؟ قَالَ : هُمُ الشُّهَدَاءُ الْمُتَقَلِّدُونَ أَسْيَافَهُمْ حَوْلَ عَرْشِ الرَّحْمَنِ ، تَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْمَحْشَرِ بِنَجَائِبَ مِنْ يَاقُوتٍ نِمَارُهَا أَلْيَنُ مِنَ الْحَرِيرِ ، مَدُّ خُطَاهَا مَدُّ أَبْصَارِ الرِّجَالِ ، يَسِيرُونَ فِي الْجَنَّةِ يَقُولُونَ عِنْدَ طُولِ النُّزْهَةِ : انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَقْضِي بَيْنَ خَلْقِهِ يَضْحَكُ إِلَيْهِمْ إِلَهِي ، وَإِذَا ضَحِكَ إِلَى عَبْدٍ فِي مَوْطِنٍ ، فَلَا حِسَابَ عَلَيْهِ .
( 156 ) وَسَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ حَدِيثٌ فِي : الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا الْآيَةَ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جبریل علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللهُ﴾ [سورة الزمر: 68] کے متعلق دریافت فرمایا کہ وہ کون لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے صور کی ہولناکی سے بے ہوش ہونے سے محفوظ رکھنے کا ارادہ فرمایا ہے؟ جبریل علیہ السلام نے عرض کیا: ”وہ ایسے شہداء ہیں جو اپنی تلواریں حمائل کیے ہوئے رحمن کے عرش کے گرد موجود ہوں گے، فرشتے قیامت کے دن میدانِ محشر کی طرف ان کا استقبال یاقوت کی ایسی عمدہ اور نجیب اونٹنیوں کے ساتھ کریں گے جن کے زین پوش اور گدے ریشم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، ان کا ایک ایک قدم انسانی نگاہ کی آخری حد تک پڑے گا، وہ جنت میں سیر و تفریح کرتے ہوئے اس طویل خوشگوار سفر کے دوران کہیں گے: «انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ» ”ہمیں ہمارے رب عزوجل کی بارگاہ میں لے چلو“ تاکہ ہم مشاہدہ کریں کہ وہ اپنی مخلوق کے درمیان کس طرح فیصلہ فرماتا ہے، میرا پروردگار ان کی طرف دیکھ کر تبسم فرمائے گا، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بھی مقام پر اپنے بندے کی طرف دیکھ کر تبسم فرما دے (یعنی اپنی رضا کا اظہار فرمائے) تو پھر اس پر کوئی حساب و کتاب نہیں ہوتا۔“
اور ان شاء اللہ تعالیٰ عنقریب جنت کی صفات کے باب میں اس آیت ﴿وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا﴾ [سورة الزمر: 73] کے متعلق بھی حدیث آئے گی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3702
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 3018، وأخرجه سنن سعيد بن منصور برقم: 2569»