❮
❯
حدیث نمبر: 3700
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، ثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ ، عَنْ لَيْثِ ابْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جَاءَنِي رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ قَالَ : هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي ، فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ كَتِفَيَّ - قَالَ : فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ ، فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا فِي صَدْرِي - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ قَالَ : هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : فِي الدَّرَجَاتِ وَالْكَفَّارَاتِ ، أَمَّا الدَّرَجَاتُ فَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكْرُوهَاتِ ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، وَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ : فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ ، وَكَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، وَقَالَ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، قُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَلَ الْحَسَنَاتِ ، وَتَرْكَ السَّيِّئَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً وَأَنَا بَيْنَهُمْ فَتَوَفَّنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ .
ترجمہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب کی تجلی ایک حسین ترین صورت میں میرے پاس آئی، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! میں نے عرض کیا: اے میرے رب! میں حاضر ہوں اور تیری فرمانبرداری کے لیے ہمہ وقت تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا: کیا آپ جانتے ہیں کہ ملأِ اعلیٰ (مقرب فرشتے) کس بات پر بحث و تکرار کر رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا: میں نہیں جانتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تب اللہ تعالیٰ نے اپنا دستِ قدرت میرے سینے پر رکھا تو میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے کندھوں کے درمیان محسوس کی —یا فرمایا: اپنا دستِ قدرت میرے کندھوں کے درمیان رکھا تو میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی— پھر اللہ تعالیٰ نے دوبارہ فرمایا: اے محمد! میں نے عرض کیا: اے میرے رب! میں حاضر و مستعد ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے پھر پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ ملأِ اعلیٰ کس بات پر تکرار کر رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ درجات کی بلندی اور گناہوں کو مٹانے والے اعمال (کفارات) کے بارے میں تکرار کر رہے ہیں۔ رہے درجات تو وہ ناپسندیدہ و مشکل حالات میں بھی مکمل و اچھی طرح وضو کرنا، نمازِ باجماعت کے لیے قدم اٹھا کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہیں۔ اور کفارات (گناہوں کا کفارہ بننے والے اعمال) یہ ہیں: کھانا کھلانا، سلام کو رواج دینا اور رات کے اس وقت نماز پڑھنا جب لوگ سو رہے ہوں۔ تو جس نے یہ اعمال کیے وہ خیر و بھلائی کے ساتھ زندگی بسر کرے گا اور اپنے گناہوں سے ایسے پاک ہو جائے گا جیسے اس دن تھا جب اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! یہ کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَلَ الْحَسَنَاتِ ، وَتَرْكَ السَّيِّئَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً وَأَنَا بَيْنَهُمْ فَتَوَفَّنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ» ”اے اللہ! میں تجھ سے نیک کاموں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مسکینوں کی محبت کا سوال کرتا ہوں، اور جب تو کسی قوم کو فتنے میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے اور میں ان میں موجود ہوں، تو مجھے فتنے میں مبتلا ہوئے بغیر اپنی طرف اٹھا لے۔“ “
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کے شواہد دیگر کتبِ حدیث میں بھی موجود ہیں جو اس کے متن کی تقویت کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3700
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف منقطع »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8117، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 11743، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 531»