وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، ثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ - يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ - ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَبِّي أَتَانِي اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ... الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ ، وَحُبًّا يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ .رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نمازِ فجر کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک آج رات میرا رب میرے پاس نہایت ہی حسین و جمیل صورت میں جلوہ گر ہوا...“ پھر راوی نے مکمل طویل حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں ان کلمات کا اضافہ کیا کہ (آپ ﷺ نے یہ دعا مانگی): «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبًّا يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں، اور اس شخص کی محبت کا طالب ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے، اور ایسی محبت (یا عمل) کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔“
اس حدیث کو امام احمد بن منیع نے روایت کیا ہے، اس کی اصل جامع ترمذی [حدیث: 3235] میں موجود ہے اور امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے، نیز اس دعا کے الفاظ دیگر صحیح شواہد سے بھی ثابت ہیں۔