المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ يس باب: سورہ یٰسین۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، قَالَ : إِنَّ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ جَاءَ بِعَظْمٍ حَائِلٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَتَّهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَيَبْعَثُ اللهُ هَذَا بَعْدَ مَا أَرَمَّ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، يَبْعَثُ هَذَا ، ثُمَّ يُمِيتُكَ ، ثُمَّ يُحْيِيكَ ، ثُمَّ يُدْخِلُكَ جَهَنَّمَ ، قَالَ : فَنَزَلَتِ الْآيَاتُ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ يس : أَوَلَمْ يَرَ الإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا - إِلَى آخِرِ السُّورَةِ .ابو مالک سے روایت ہے کہ ابی بن خلف ایک گلی سڑی اور بوسیدہ ہڈی لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسے آپ ﷺ کے سامنے اپنے ہاتھوں سے چورا چورا کر دیا، پھر کہنے لگا: ”اے محمد! کیا اللہ اس ہڈی کو دوبارہ زندہ کرے گا جبکہ یہ بالکل گل سڑ چکی ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں! اللہ اسے بھی دوبارہ اٹھائے گا، پھر تجھے موت دے گا، پھر تجھے دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر تجھے جہنم میں داخل کرے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس موقع پر سورہ یٰسین کی آخری آیات نازل ہوئیں: ﴿أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ﴾ [سورة يس: 77] سورت کے آخر تک۔
اس حدیث کی سند حسن ہے اور اسے امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔