المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ يس باب: سورہ یٰسین۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ خَالِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَلِيُّ ، اقْرَأْ يس ; فَإِنَّ فِي يس عَشْرَ بَرَكَاتٍ : مَا قَرَأَهَا جَائِعٌ إِلَّا شَبِعَ ، وَلَا ظَمْآنُ إِلَّا رُوِيَ ، وَلَا عَارٍ إِلَّا اكْتَسَى ، وَلَا عَزَبٌ إِلَّا تَزَوَّجَ ، وَلَا خَائِفٌ إِلَّا أَمِنَ ، وَلَا مَسْجُونٌ إِلَّا خَرَجَ ، وَلَا مُسَافِرٌ إِلَّا أُعِينَ عَلَى سَفَرِهِ ، وَلَا مَنْ ضَلَّتْ ضَالَّتُهُ إِلَّا وَجَدَهَا ، وَلَا مَرِيضٌ إِلَّا بَرَأَ ، وَلَا قُرِئَتْ عِنْدَ مَيِّتٍ إِلَّا خُفِّفَ عَنْهُ .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”اے علی! سورت یٰسین کی تلاوت کیا کرو؛ کیونکہ سورت یٰسین کی تلاوت میں دس طرح کی برکتیں پوشیدہ ہیں: اسے کوئی بھوکا نہیں پڑھتا مگر وہ شکم سیر ہو جاتا ہے، اسے کوئی پیاسا نہیں پڑھتا مگر وہ سیراب کر دیا جاتا ہے، اسے کوئی لباس سے محروم شخص نہیں پڑھتا مگر اسے لباس عطا کر دیا جاتا ہے، اسے کوئی غیر شادی شدہ شخص نہیں پڑھتا مگر اللہ تعالیٰ اس کے نکاح کا سامان فرما دیتا ہے، اسے کوئی خوف زدہ شخص نہیں پڑھتا مگر اسے امن و امان نصیب ہو جاتا ہے، اسے کوئی قیدی نہیں پڑھتا مگر اسے قید سے خلاصی مل جاتی ہے، اسے کوئی مسافر نہیں پڑھتا مگر سفر میں اس کی غیبی مدد کی جاتی ہے، اور نہ ہی کوئی ایسا شخص جس کی کوئی چیز گم ہو گئی ہو وہ اسے پڑھتا ہے مگر وہ اپنی گمشدہ چیز کو دوبارہ پا لیتا ہے، اسے کوئی بیمار نہیں پڑھتا مگر اسے صحت و شفا عطا کر دی جاتی ہے، اور نہ ہی اسے کسی ایسے شخص کے پاس پڑھا جاتا ہے جس کی موت کا وقت قریب ہو مگر اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف میں تخفیف فرما دیتا ہے۔“
یہ روایت اپنی سند کے اعتبار سے انتہائی ضعیف بلکہ موضوع (من گھڑت) ہے؛ اس کی زنجیرِ روایت میں حماد بن عمرو اور السری بن خالد جیسے راوی موجود ہیں جو حدیثیں وضع کرنے میں معروف رہے ہیں، اسی بنا پر امام ابن الجوزی اور دیگر ائمہِ جرح و تعدیل نے اسے غیر مستند اور باطل قرار دیا ہے۔