المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ يس باب: سورہ یٰسین۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ الصَّفَّارُ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَرَأَ يس يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللهِ تَعَالَى غُفِرَ لَهُ ، وَمَنْ قَرَأَ يس فَكَأَنَّمَا قَرَأَ الْقُرْآنَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ مَرَّةً ، وَمَنْ قَرَأَ يس وَهُوَ فِي سَكَرَاتِ الْمَوْتِ جَاءَ رِضْوَانُ خَازِنُ الْجَنَّةِ بِشَرْبَةٍ مِنْ شَرَابِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَسْقِيَهُ وَهُوَ عَلَى فِرَاشِهِ حَتَّى يَمُوتَ رَيَّانَ ، وَيُبْعَثَ رَيَّانَ .سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر سورہ یٰسین کی تلاوت کی تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی، اور جس نے سورہ یٰسین پڑھی تو اسے گویا بارہ مرتبہ قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے کا ثواب ملے گا، اور جس شخص نے نزع کے عالم اور موت کی سختیوں کے وقت سورہ یٰسین پڑھی تو جنت کا نگہبان فرشتہ رضوان جنت کے مشروبات میں سے ایک مشروب لے کر حاضر ہوگا اور اسے اس کے بستر پر ہی پلائے گا یہاں تک کہ وہ سیراب ہو کر فوت ہوگا اور روزِ قیامت قبر سے بھی سیرابی کی حالت میں ہی اٹھایا جائے گا۔“
اس روایت کو احمد بن منیع نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں یوسف بن عطیہ الصفار البصری نامی راوی موجود ہے جو کہ ائمہ حدیث کے نزدیک متروک اور نہایت ضعیف ہے، اس لیے یہ روایت سنداً ضعیف اور ناقابلِ احتجاج ہے۔