المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النُّورِ باب: سورۂ نور۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا مَعْمَرُ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا الزُّهْرِيُّ ، ثَنَا عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : خَرَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ الْأَنْصَارِيَّةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - لِحَاجَةٍ لَنَا ، فَعَثَرَتْ ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، فَقُلْتُ : بِئْسَ مَا قُلْتِ لِرَجُلٍ صَحِبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَلَمَّا نَزَلَتْ بَرَاءَتِي قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَائِشَةُ أَبْشِرِي ، فَقَامَ إِلَيَّ أَبِي وَأُمِّي - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَقَبَّلُونِي ، فَدَفَعْتُ فِي صُدُورِهِمَا ، فَقُلْتُ : بِغَيْرِ حَمْدِكُمَا وَلَا حَمْدِ صَاحِبِكُمَا ، أَحْمَدُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا عَذَرَنِي وَبَرَّأَنِي وَسَاءَ ظَنُّكُمَا ، إِذْ لَمْ تَظُنَّا بِأَنْفُسِكُمَا خَيْرًا ... الْحَدِيثَ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں اور ام مسطح انصاریہ رضی اللہ عنہا اپنی کسی ضرورت کے لیے باہر نکلیں، تو (راستے میں) ام مسطح ٹھوکر کھا کر گر پڑیں، جس پر انہوں نے (اپنے بیٹے کو بددعا دیتے ہوئے) کہا: «تَعِسَ مِسْطَحٌ» ”مسطح ہلاک و برباد ہو جائے!“ میں نے کہا: تم نے ایک ایسے شخص کے بارے میں بہت ہی بری بات کہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی رفاقت کا شرف حاصل کر چکا ہے۔ پھر جب (آسمان سے) میری براءت اور پاکدامنی نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے (خوشخبری دیتے ہوئے) فرمایا: ”اے عائشہ! تمہیں خوشخبری ہو (کہ اللہ نے تمہاری پاکدامنی بیان فرما دی ہے)۔“ اس پر میرے والد اور میری والدہ رضی اللہ عنہما میری طرف بڑھے اور انہوں نے میرا بوسہ لیا، تو میں نے ان کے سینوں پر ہاتھ مار کر انہیں پیچھے دھکیل دیا اور کہا: ”میں تم دونوں کی شکر گزار ہوں نہ تمہارے ان صاحب (نبی کریم ﷺ) کی احسان مند ہوں، میں تو صرف اللہ عزوجل کی حمد و ثنا کرتی ہوں جس نے میرا عذر قبول فرمایا اور مجھے (تہمت سے) بری قرار دیا، جبکہ تم لوگوں کا گمان تو بگڑ گیا تھا کیونکہ تم نے (اپنے متعلقین کے بارے میں ویسا) خیر و بھلائی کا گمان نہیں کیا تھا (جیسا کہ تمہیں اپنے متعلق کرنا چاہیے تھا)۔“
اس حدیث کو امام حارث نے مسند الحارث (بغیۃ الباحث: 3672) میں روایت کیا ہے۔