المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْفُرْقَانِ باب: سورہ الفرقان۔
حدیث نمبر: 3673
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ : حِجْرًا مَحْجُورًا - قَالَ : كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا رَأَتْ شَيْئًا تَكْرَهُهُ قَالَتْ : حِجْرًا .ترجمہ
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿حِجْرًا مَحْجُورًا﴾ [سورة الفرقان: 22] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: ”عربوں میں یہ دستور تھا کہ جب کوئی عورت ایسی چیز دیکھتی تھی جسے وہ ناپسند کرتی تھی تو وہ (بطورِ پناہ) کہتی تھی: «حِجْرًا» یعنی ”یہ (مجھ پر) حرام اور قطعی ممنوع ہے“۔“
یہ روایت امام حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے جو اس قرآنی کلمے کے جاہلی دور میں رائج لسانی استعمال اور اس کے تفسیری مفہوم کی وضاحت کرتی ہے۔