المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النُّورِ باب: سورۂ نور۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَخْنَسِيُّ ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، ثَنَا الْكَلْبِيُّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا - يَقُولُ : قِطَعًا ، يَجْعَلُ بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ فَتَرَى الْوَدْقَ يَعْنِي : الْمَطَرَ يَخْرُجُ مِنْ خِلالِهِ مِنْ بَيْنِهِ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا﴾ [سورة الروم: 48] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ ”كِسَفًا“ سے مراد بادلوں کے ”ٹکڑے ٹکڑے“ ہونا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ بادلوں کے بعض حصوں کو دوسرے حصوں کے اوپر تہہ در تہہ جمع فرما دیتا ہے، ”فَتَرَى الْوَدْقَ“ یعنی پھر تم بارش کو دیکھتے ہو، ”يَعْنِي: الْمَطَرَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ“ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بارش ان بادلوں کے ”درمیان اور بیچ“ سے نکلتی ہے۔
اس روایت کی سند میں محمد بن السائب الکلبی راوی ہے جو کہ ائمہ حدیث کے نزدیک ضعیف اور متروک ہے، تاہم لغوی اور تفسیری اعتبار سے یہ مفہوم دیگر معتبر تفاسیر میں بھی منقول ہے۔