المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سورة الْحَجِّ باب: سورہ حج۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : قَالَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَهْلِ دِينٍ كُنْتُ مَعَهُمْ ، فَذَكَرَ مِنْ صَلَاتِهِمْ ، وَصِيَامِهِمْ ، وَعِبَادَتِهِمْ ، فَنَزَلَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسَ إِلَى قَوْلِهِ : شَهِيدٌ .سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں نے نبی کریم ﷺ سے ان اہل دین کے متعلق دریافت کیا جن کے ہمراہ میں (قبولِ اسلام سے قبل) رہا کرتا تھا، چنانچہ میں نے آپ ﷺ کے سامنے ان کی نمازوں، ان کے روزوں اور ان کی زہد و عبادت کا تذکرہ کیا، تو اللہ عزوجل کا یہ مبارک فرمان نازل ہوا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسَ﴾ [سورة الحج: 17] یعنی ”بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے، اور وہ جو یہودی ہوئے، اور صابی، اور نصاریٰ، اور مجوسی“ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿شَهِيدٌ﴾ [سورة الحج: 17] تک۔“
اس روایت کو امام ابن ابی عمر نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم مجاہد کا سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں، لیکن دیگر شواہد کی بنا پر اس کا معنی و مفہوم درست ہے۔