المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سورة الْحَجِّ باب: سورہ حج۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : كَانَ ابْنُ عَمْرٍو - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يَضْرِبُ قُبَّتَيْنِ قُبَّةً فِي الْحِلِّ وَقُبَّةً فِي الْحَرَمِ ، فَقِيلَ لَهُ : لَوْ كُنْتَ مَعَ ابْنِ عَمِّكَ وَأَهْلِكَ ؟ فَقَالَ : إِنَّ مَكَّةَ بَكَّةُ ، وَإِنَّا أُنْبِئْنَا أَنَّ مِنَ الْإِلْحَادِ فِيهَا : كَلَّا وَاللهِ ، وَبَلَى وَاللهِ .
هَذَا مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ .
( 154 ) قَوْلُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : لِيَنْزِلِ الْبَادِي حَيْثُ شَاءَ ، تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ الْحَجِّ .مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما دو خیمے نصب کیا کرتے تھے، ایک خیمہ حدودِ حرم سے باہر حِل کے مقام پر اور دوسرا حدودِ حرم کے اندر ہوتا تھا، پس ان سے عرض کیا گیا کہ ”کاش آپ اپنے چچا زاد بھائی اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ (مکہ ہی میں) قیام فرماتے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”بے شک مکہ ”بکّہ“ (یعنی ہجوم اور کثرتِ ازدحام والی جگہ) ہے، اور ہمیں یہ خبر دی گئی ہے کہ حرم مکہ کی حدود میں الحاد (یعنی حدودِ الٰہی سے تجاوز اور گناہ) میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان (معمولی باتوں پر قسمیں کھاتے ہوئے) کہے: «كَلَّا وَاللهِ» ”ہرگز نہیں، اللہ کی قسم!“ اور «بَلَى وَاللهِ» ”کیوں نہیں، اللہ کی قسم!“۔“
یہ روایت موقوف ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
(154) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول کہ ”دیہاتی یا صحرا نشین جہاں چاہے پڑاؤ ڈالے“، یہ کتاب الحج کے شروع میں پہلے گزر چکا ہے۔