المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سورة الْحَجِّ باب: سورہ حج۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ : مَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْهِ شَيْءٌ ، وَإِنْ هَمَّ بِعَدَنِ أَبْيَنَ أَنْ يَقْتُلَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، أَذَاقَهُ اللهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ، ثُمَّ قَرَأَ : وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ الْآيَةَ .
مَوْقُوفٌ قَوِيُّ الْإِسْنَادِ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جو شخص کسی برائی کا پختہ ارادہ کرے لیکن پھر اس پر عمل نہ کرے تو اس کے نامہ اعمال میں اس کے خلاف کچھ بھی (گناہ) نہیں لکھا جاتا، البتہ اگر کوئی شخص (یمن کے دور دراز علاقے) عدن ابین میں مقیم ہو کر بھی مسجد حرام میں کسی کو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائے گا“، پھر انہوں نے (بطورِ دلیل) یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [سورة الحج: 25] یعنی اور جو شخص بھی اس (حدودِ حرم) میں کج روی کے ساتھ کسی ظلم کا ارادہ کرے گا، ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
یہ روایت موقوف ہے اور اس کی سند قوی ہے۔