المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النَّحْلِ باب: سورہ النحل۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، ثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي فِرَاسٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ : إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلهِ حَنِيفًا ، فَقَالَ فَرْوَةُ بْنُ نَوْفَلٍ : نَسِيَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا نَسِيتُ ، إِنَّا كُنَّا نُشَبِّهُهُ بِإِبْرَاهِيمَ .
وَسُئِلَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْأُمَّةِ قَالَ : مُعَلِّمُ الْخَيْرِ . وَسُئِلَ عَنِ الْقَانِتِ ، قَالَ : الْمُطِيعُ لِلهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .مسروق سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے) یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا﴾ [سورة النحل: 120] ”بے شک معاذ ایک مقتدا، اللہ کے فرمانبردار اور (باطل سے کٹ کر حق کی طرف) یکسو تھے“، یہ سن کر فروہ بن نوفل نے کہا: وہ شاید بھول گئے ہیں، (اصل آیت میں تو) بے شک ابراہیم (علیہ السلام کا ذکر ہے کہ وہ امت تھے)، اس پر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا: ”میں بھولا نہیں ہوں، بلکہ ہم تو انہیں (ان کے اوصافِ حمیدہ کی وجہ سے) سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے تشبیہ دیا کرتے تھے“۔
اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب لفظ «الأمة» کے معنی دریافت کیے گئے تو انہوں نے فرمایا: ”لوگوں کو خیر و بھلائی کی تعلیم دینے والا“، اور جب ان سے «القاننت» کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا مکمل فرمانبردار اور اطاعت گزار“۔