❮
❯
حدیث نمبر: 3646
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى بِئْرِ الْمُشْرِكِينَ يَسْتَقِي مِنْهَا ، وَحَوْلَهَا ثَلَاثُ صُفُوفٍ يَحْرُسُونَهَا ، فَاسْتَقَى فِي قِرَبِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى أَتَى الصَّفَّ الْأَوَّلَ فَأَخَذُوهُ ، فَقَالَ : دَعُونِي فَإِنَّمَا أَسْتَقِي لِأَصْحَابِكُمْ فَتَرَكُوهُ ، ثُمَّ عَادَ الثَّانِيَةَ فَأَخَذُوهُ فَفَعَلُوا بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ تَرَكُوهُ ، فَذَهَبَ فَعَادَ فَأَخَذُوهُ فَفَعَلُوا بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا أَرَادُوهُ عَلَى أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْكُفْرِ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْلَ فَاسْتَنْقَذُوهُ ، فَأُنْزِلَتْ فِيهِ هَذِهِ الْآيَةُ : إِلا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ .
ترجمہ

ابوالمتوکل الناجی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو مشرکین کے ایک کنویں کی طرف بھیجا تاکہ وہ وہاں سے پانی بھر کر لائیں، اس کنویں کے گرد پہرے داروں کی تین صفیں تھیں جو اس کی نگرانی کر رہی تھیں، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اپنی مشکوں میں پانی بھرا اور پھر واپس مڑے یہاں تک کہ جب وہ پہلی صف کے پاس پہنچے تو پہرے داروں نے انہیں پکڑ لیا، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے (حکمتِ عملی کے طور پر) کہا: ”مجھے چھوڑ دو، میں تو محض تمہارے ہی ساتھیوں کے لیے پانی بھر کر لے جا رہا ہوں“، چنانچہ انہوں نے انہیں چھوڑ دیا، پھر جب وہ دوبارہ گزرے تو انہوں نے پھر پکڑ لیا اور ان کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کیا، پھر وہ تیسری مرتبہ گزرے تو انہوں نے پھر انہیں پکڑ لیا اور پہلے جیسا ہی سلوک کیا، پھر جب ان دشمنوں نے ان پر شدید دباؤ ڈالا اور انہیں اس بات پر مجبور کرنا چاہا کہ وہ کفر کے کلمات زبان سے ادا کریں تو رسول اللہ ﷺ نے ایک سوار دستہ روانہ فرما دیا جس نے انہیں باحفاظت چھڑا لیا، پس ان کے حق میں یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی: ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ [سورة النحل: 106] ”سوائے اس شخص کے جسے کفر پر مجبور کر دیا جائے جبکہ اس کا دل ایمان کے ساتھ پوری طرح مطمئن ہو“۔
اس روایت کی سند میں اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف راوی ہے، تاہم اس واقعے کی اصل دیگر معتبر شواہد میں موجود ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3646
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح مرسل »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»