المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سورة الْحَجَرِ باب: سورۃ الحجر۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : مَا خَلَقَ اللهُ ( عَزَّ وَجَلَّ ) وَمَا ذَرَأَ مِنْ نَفْسٍ أَكْرَمَ عَلَيْهِ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا سَمِعْتُ اللهَ ( تَبَارَكَ وَتَعَالَى ) أَقْسَمَ بِحَيَاةِ أَحَدٍ إِلَّا بِحَيَاتِهِ ، ( فَقَالَ ) : لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ایسی کوئی جان پیدا نہیں کی اور نہ ہی کسی ذی روح کو وجود بخشا جو اس کے نزدیک سیدنا محمد ﷺ سے زیادہ معزز و محترم ہو، اور میں نے کبھی نہیں سنا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے سوا کسی اور کی زندگی کی قسم کھائی ہو، چنانچہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: ﴿لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ﴾ [سورة الحجر: 72] ”(اے حبیب ﷺ!) آپ کی عمرِ عزیز کی قسم! بیشک وہ اپنی بدمستی میں اندھے ہو کر بھٹک رہے ہیں۔“
اس روایت کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں عبد العزیز بن ابان کے واسطے سے نقل کیا ہے جو کہ ضعیف اور متروک راوی ہے، تاہم یہ مفہوم ائمہِ تفسیر کے ہاں معروف اور مستند شواہد سے ثابت ہے۔