❮
❯
حدیث نمبر: 3640
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ابْنُ أَبِي ( بُكَيْرٍ ) ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : عُيِّرَ يُوسُفُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِقَوْلِهِ : اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ فَأَنْسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ وَقَوْلِهِ لِإِخْوَتِهِ : إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ قَالُوا إِنْ يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ وَقَالَ : ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ : وَلَا حِينَ هَمَمْتَ ؟ ( قَالَ ) : وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي الْآيَةَ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا یوسف علیہ الصلاۃ والسلام کو ان کے (چند مخصوص) اقوال کی بنا پر اللہ کی جانب سے تنبیہ کی گئی؛ ایک ان کا وہ قول (جو انہوں نے رہا ہونے والے قیدی سے کہا تھا): ﴿اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ﴾ [سورة يوسف: 42] ”میرا ذکر اپنے آقا (بادشاہ) کے پاس کرنا“، پس ﴿فَأَنْسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ﴾ [سورة يوسف: 42] ”پھر شیطان نے اس (شخص) کو اپنے آقا کے سامنے تذکرہ کرنا بھلا دیا“۔ دوسرا ان کا اپنے بھائیوں سے یہ فرمانا: ﴿إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ﴾ [سورة يوسف: 70] ”یقیناً تم لوگ چور ہو“، جس پر بھائیوں نے (جواباً) کہا: ﴿إِنْ يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ﴾ [سورة يوسف: 77] ”اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کا ایک بھائی بھی چوری کر چکا ہے“۔ تیسرا ان کا یہ قول: ﴿ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ﴾ [سورة يوسف: 52] ”یہ اس لیے تاکہ وہ (عزیزِ مصر) جان لے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی“، تو اس پر سیدنا جبریل علیہ الصلاۃ والسلام نے ان سے (استفساراً) کہا: ”اور کیا اس وقت بھی (کوئی میلان نہ تھا) جب آپ نے (اس عورت کا) ارادہ کیا تھا؟“ اس پر یوسف علیہ السلام نے عرض کیا: ﴿وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي﴾ [سورة يوسف: 53] ”اور میں اپنے نفس کی پاکیزگی بیان نہیں کرتا (بے شک نفس تو برائی کا بہت زیادہ حکم دینے والا ہے)“۔
اس روایت کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں خصیف بن عبد الرحمن ایک راوی ہیں جو صدوق ہیں لیکن بعض محدثین نے ان کے حافظے کی وجہ سے ان پر کلام کیا ہے، نیز یہ قول ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3640
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 3343»