المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الرَّعْدِ باب: سورۂ رعد۔
قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي الزُّهْدِ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْوَرَّاقُ ، ثَنَا عَثَّامٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ : سَمِعْتُ شَقِيقًا يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنَا عِنْدَكَ ( أَشْقِيَاءَ ) فَامْحُنَا وَاكْتُبْنَا سُعَدَاءَ ، وَإِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنَا سُعَدَاءَ فَأَثْبِتْنَا ، فَإِنَّكَ تَمْحُو مَا تَشَاءُ وَتُثْبِتُ وَعِنْدَكَ أُمُّ الْكِتَابِ .شقیق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور یوں التجا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنَا عِنْدَكَ أَشْقِيَاءَ فَامْحُنَا وَاكْتُبْنَا سُعَدَاءَ ، وَإِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنَا سُعَدَاءَ فَأَثْبِتْنَا ، فَإِنَّكَ تَمْحُو مَا تَشَاءُ وَتُثْبِتُ وَعِنْدَكَ أُمُّ الْكِتَابِ» ”اے اللہ! اگر تو نے ہمیں اپنے پاس (لوحِ محفوظ میں) بدبختوں میں لکھ رکھا ہے تو ہمیں وہاں سے مٹا کر سعادت مندوں میں لکھ دے، اور اگر تو نے ہمیں سعادت مند ہی لکھا ہے تو اسے برقرار و ثابت رکھ، کیونکہ تو جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے (باقی و) ثابت رکھتا ہے اور تیرے ہی پاس اصل کتاب (لوحِ محفوظ) ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ [سورة الرعد: 39]۔“
امام عبداللہ بن احمد نے اسے کتاب الزہد میں روایت کیا ہے۔