المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَوْنِ الْمَسَاجِدِ باب: مساجد کی حفاظت اور ان کے آداب و تقدس کو برقرار رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 364
[قَالَ] الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ ، فَقُلْتُ [لَهُ] : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي يُحَدَّثُ بِهِ عَنْكَ : إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ " ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَقٌّ " .ترجمہ
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی، تو میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اس حدیث کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں جو آپ کے حوالے سے بیان کی جاتی ہے کہ: ”بے شک فرشتے ان چیزوں سے اذیت اور ناگواری محسوس کرتے ہیں جن سے اولادِ آدم کو اذیت پہنچتی ہے“؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ بات بالکل سچ اور برحق ہے“۔
[تخریج: مسند الحميدي: 364]