المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ يُونُسَ باب: سورہ یونس۔
حدیث نمبر: 3631
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ : فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا ، يَعْنِي : بِالْمُثَنَّاةِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا﴾ [سورة يونس: 58] کو ”ت“ کے ساتھ (یعنی صیغہٴ خطاب میں) تلاوت فرمایا کرتے تھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ”پس تم لوگوں کو چاہیے کہ تم اسی پر خوشیاں مناؤ۔“
اس روایت کو امام ابن ابی عمر نے نقل کیا ہے، اس کی سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہے، اور یہ تلاوت قرأتِ مشہور ”فَلْيَفْرَحُوا“ (یعنی صیغہٴ غائب) کے برخلاف صیغہٴ مخاطب کے ساتھ منقول ہے۔