المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ يُونُسَ باب: سورہ یونس۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، وَعَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَبَّرَ تَكْبِيرَةً فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ سَبَقَ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ قَالَ : فَيَنْظُرُ إِلَى ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ بُكْرَةً وَمَسَاءً ، كَمَا تَرَوْنَ الشَّمْسَ لَا تَشُكُّونَ فِي رُؤْيَتِهَا ، وَلَهُ مِنَ الْكَرَامَةِ وَالنَّعِيمِ كَمَا قَالَ اللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى : لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ وَقَالَ : الَّذِينَ أَحْسَنُوا : الَّذِينَ قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ . وَالْحُسْنَى : الْجَنَّةُ ، وَالزِّيَادَةُ : النَّظَرُ إِلَى وَجْهِ اللهِ تَعَالَى .سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا...“ (پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی جو فضیلتِ جہاد کے باب میں گزر چکی ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر وہ (جنتی) صبح اور شام اللہ ذوالجلال والاکرام کے دیدار سے فیضیاب ہوگا، بالکل اسی طرح جیسے تم سورج کو دیکھتے ہو اور تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا، اور اس کے لیے وہ عزت و تکریم اور نعمتیں ہوں گی جس کا تذکرہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس طرح فرمایا ہے: ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ [سورة يونس: 26]۔“ آپ ﷺ نے مزید وضاحت فرمائی کہ: ”﴿الَّذِينَ أَحْسَنُوا﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کا اقرار و یقین کیا، اور «الْحُسْنَى» سے مراد جنت ہے، جبکہ «الزِّيَادَةُ» سے مراد اللہ تعالیٰ کے وجہِ کریم (ذاتِ باری تعالیٰ) کا دیدار کرنا ہے۔“
اس حدیث کی سند میں داؤد بن المحبر اور عباد بن کثیر متروک اور ضعیف راوی ہیں۔