المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ التَّوْبَةِ باب: سورہ توبہ۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَقِيلٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَاتَ يَجُرُّ الْجَرِيرَ عَلَى ظَهْرِهِ عَلَى صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ . فَانْقَلَبْتُ بِأَحَدِهِمَا إِلَى أَهْلِي ، وَجِئْتُ بِالْآخَرِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، فَأَخْبَرْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ ، فَقَالَ : " انْشُرْهُ فِي الْمَسْجِدِ " فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ وَسَخِرُوا بِهِ : لَقَدْ كَانَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيًّا عَنْ صَاعِ هَذَا الْمِسْكِينِ ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ الْآيَةَ .سیدنا ابن ابی عقیل اپنے والد (سیدنا ابوعقیل انصاری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے پوری رات اپنی کمر پر رسی کے ذریعے بوجھ ڈھونے کی مشقت طلب مزدوری کی جس کے عوض انہیں دو صاع کھجوریں ملیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان میں سے ایک صاع لے کر اپنے گھر والوں کے پاس پلٹا اور دوسرا صاع لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تاکہ اس کے ذریعے اپنے رب عزوجل کی خوشنودی اور قرب حاصل کروں، پھر میں نے آپ ﷺ کو سارا واقعہ سنایا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسے مسجد میں (دیگر صدقات کے ڈھیر پر) بکھیر دو۔“ یہ دیکھ کر منافقین نے تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ ”یقیناً اللہ عزوجل اس مسکین کے ایک صاع صدقے سے بے نیاز ہے“، تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة التوبة: 79]۔
اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے اپنی "المصنف" میں روایت کیا ہے، اگرچہ اس سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی ضعیف راوی ہے، تاہم سیدنا ابوعقیل انصاری رضی اللہ عنہ کے صدقہ کرنے اور منافقین کے طنز کا یہ واقعہ صحیح بخاری (1415) اور صحیح مسلم (1018) میں دیگر معتبر اسانید سے مروی اور ثابت ہے۔