المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ التَّوْبَةِ باب: سورہ توبہ۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَرَأَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَذِهِ الْآيَةَ : انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ فَقَالَ : " مَا أَسْمَعَ اللهُ تَعَالَى عُذْرًا لِأَحَدٍ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَلَمْ يَزَلْ بِهَا مُجَاهِدًا حَتَّى مَاتَ بِهَا .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیتِ مبارکہ ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة التوبة: 41] تلاوت فرمائی تو (اس کی تفسیر میں) فرمایا: ”میں نہیں پاتا کہ اللہ تعالیٰ نے (اس عام حکم کے بعد) کسی کا بھی کوئی عذر سنا (یعنی باقی چھوڑا) ہو“، چنانچہ وہ (بڑھاپے کے باوجود جہاد کے لیے) ملکِ شام کی طرف نکل گئے اور وہاں مسلسل اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ وہیں ان کی وفات ہو گئی۔
(تخریج: یہ روایت امام ابن ابی شیبہ نے المصنف (33994) میں اور امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند (503) میں روایت کی ہے، اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہے لیکن دیگر شواہد کی بنا پر اس کا مفہوم صحیح ہے)۔