المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ التَّوْبَةِ باب: سورہ توبہ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى ، ثَنَا أَبِي ، ثَنَا غَيْلَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ كَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَقَالُوا : مَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُنَا أَنْ يَتْرُكَ لِوَلَدِهِ مَالًا يَبْقَى بَعْدَهُ . فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ ، فَانْطَلَقُوا ، وَانْطَلَقَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاتَّبَعَهُ ثَوْبَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ; فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، إِنَّهُ كَبُرَ عَلَى أَصْحَابِكَ هَذِهِ الْآيَةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا لَمْ نَفْرِضِ الزَّكَاةَ إِلَّا لِمَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ ، وَإِنَّمَا فُرِضَتِ الْمَوَارِيثُ فِي الْأَمْوَالِ لِتَبْقَى بَعْدَكُمْ .
قَالَ : فَكَبَّرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُكْنَزُ ؟ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ ؛ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ ، وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ ، وَإِنْ غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ
3627 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِهَذَا .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ﴾ [سورة التوبة: 34] نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ بات نہایت گراں گزری اور وہ (تشویش سے) کہنے لگے کہ اب ہم میں سے کوئی بھی اپنے پیچھے اپنی اولاد کے لیے ایسا مال نہیں چھوڑ سکے گا جو ان کے لیے باقی رہے۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہاری یہ پریشانی دور کرتا ہوں“، چنانچہ وہ روانہ ہوئے اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بھی ان کے پیچھے ہو لیے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! آپ کے صحابہ پر یہ آیت بہت شاق گزری ہے“۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہم نے زکوٰۃ صرف اسی لیے فرض کی ہے تاکہ تمہارے پاس بچ جانے والے بقیہ اموال پاک ہو جائیں، اور اللہ تعالیٰ نے وراثت کے احکام تو اموال میں فرض ہی اس لیے کیے ہیں تاکہ وہ تمہارے بعد (تمہارے ورثاء کے لیے) باقی رہیں“۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (مسرت کے اظہار کے طور پر) «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پکارا، پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس بہترین خزانے کی خبر نہ دوں جسے جمع کیا جا سکتا ہے؟ وہ صالحہ (نیک بخت) عورت ہے؛ جب شوہر اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے، جب وہ اسے کسی بات کا حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے، اور جب وہ اس کے پاس موجود نہ ہو تو وہ (اس کی غیر موجودگی میں اس کے مال و آبرو کی) حفاظت کرے“۔
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔