المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ التَّوْبَةِ باب: سورہ توبہ۔
حدیث نمبر: 3624
قَالَ مُسَدَّدٌ : ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ قَالَ : جِهَادُ الْكُفَّارِ بِالسَّيْفِ ، وَجِهَادُ الْمُنَافِقِينَ بِاللِّسَانِ .ترجمہ
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ﴾ [سورة التوبة: 73] کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کفار کے خلاف جہاد تلوار (اور مادی قوت) کے ذریعے ہے، جبکہ منافقین کے خلاف جہاد زبان کے ساتھ (یعنی حق کے بیان، دلائل کی قوت اور ان کے مکر و فریب کو بے نقاب کرنے) سے ہے“۔
اس اثر کی سند حسن ہے اور یہ کلامِ الٰہی کی ایک اہم تفسیری جہت کو واضح کرتا ہے کہ منافقین چونکہ ظاہراً کلمہ گو ہوتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف اصل جہاد علمی اور لسانی سطح پر ان کی فکری سرکوبی کرنا ہے۔