المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ التَّوْبَةِ باب: سورہ توبہ۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَلَمْ أُصَلِّ عَلَيْهِ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ ؟ قُلْتُ : إِنَّهُ مِنْهُمْ ، فَقَالَ : أَبِاللهِ مِنْهُمْ أَنَا ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : ( فَبَكَى ) .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، وَقَدِ اسْتَنْكَرَهُ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ .سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک منافق شخص کا انتقال ہو گیا تو میں نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی، اس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ ”تمہیں اس کے جنازے کی نماز ادا کرنے سے کس چیز نے روکا؟“ میں نے جواب دیا کہ ”وہ ان (منافقین) میں سے تھا،“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (نہایت فکر مندی سے) پوچھا کہ ”اللہ کی قسم! کیا میں بھی انہی (منافقین) میں سے ہوں؟“ میں نے عرض کیا کہ ”جی نہیں،“ تو یہ سن کر وہ رو پڑے۔
اس کی سند صحیح ہے، البتہ یعقوب بن سفیان نے زید بن وہب کی روایت ہونے کی وجہ سے اسے منکر قرار دیا ہے۔