المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ التَّوْبَةِ باب: سورہ توبہ۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ ، فَأَخَذَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِثَوْبِهِ فَقَالَ : وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ
هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ خَالَفَ يَزِيدُ فِيهِ مَعَ ضَعْفِهِ ( مَا ) ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ صَلَّى عَلَيْهِ ، وَ ( أَنَّ ) الْآيَةَ إِنَّمَا نَزَلَتْ بَعْدَ ذَلِكَ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ "بیشک رسول اللہ ﷺ نے (منافقوں کے سردار) عبداللہ بن ابی کی نمازِ جنازہ پڑھانے کا ارادہ فرمایا، تو حضرت جبرائیل علیہ الصلاۃ والسلام نے آپ ﷺ کا لباسِ مبارک پکڑ لیا اور (اللہ کا یہ حکم سنایا): ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ﴾ [سورة التوبة: 84] ”اور آپ ان (منافقوں) میں سے جو کوئی مر جائے اس پر کبھی بھی نماز (جنازہ) نہ پڑھیں اور نہ ہی اس کی قبر پر (دفن یا زیارت کے لیے) کھڑے ہوں“۔"
یہ روایت ضعیف ہے، اور راوی یزید الرقاشی نے اپنے ضعف کے باوجود اس میں ان مستند روایات کی مخالفت کی ہے جو صحیحین (بخاری و مسلم) میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی تھی، اور یہ آیتِ کریمہ دراصل اس واقعہ کے بعد نازل ہوئی تھی۔