المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ التَّوْبَةِ باب: سورہ توبہ۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ، ثَنَا سَيْفُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَكُونُ الدِّينَارُ عَلَى الدِّينَارِ ، وَلَا الدِّرْهَمُ عَلَى الدِّرْهَمِ ، وَلَكِنْ يُوَسَّعُ جِلْدُهُ ، فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ الْآيَةَ
هَذَا ضَعِيفٌ جِدًّا لِضَعْفِ سَيْفٍ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن (عذاب دیتے وقت) نہ تو ایک دینار پر دوسرا دینار رکھا جائے گا اور نہ ہی ایک درہم پر دوسرا درہم رکھا جائے گا (یعنی ہر سکہ الگ الگ جگہ پر رکھ کر داغا جائے گا تاکہ عذاب کی شدت بڑھے)، بلکہ (زکاۃ ادا نہ کرنے والے کا) چمڑا بہت زیادہ پھیلا کر وسیع کر دیا جائے گا، پھر ان درہم و دینار (کو جہنم کی آگ میں تپا کر) ان کے ذریعے ان کی پیشانیوں، ان کے پہلوؤں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا“ جیسا کہ اس آیت مبارکہ میں ذکر ہے: ﴿يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ﴾ [سورة التوبة: 35]۔
یہ روایت سیف بن محمد نامی راوی کے ضعیف ہونے کے سبب نہایت ضعیف ہے۔