المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ التَّوْبَةِ باب: سورہ توبہ۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ السَّائِبِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ ابْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، وَعَنْ أَبِي سَوْرَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ قَالَ فِيهِمْ : رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ ، وَكَانُوا لَا يَنَامُونَ اللَّيْلَ كُلَّهُ .
أَبُو سَوْرَةَ ضَعِيفٌ .سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کے متعلق تذکرہ فرمایا جن کے بارے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾ ”وہاں ایسے لوگ موجود ہیں جو پاک صاف رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے“ [سورة التوبة: 108]، تو آپ ﷺ نے (ان کی صفات بیان کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو (طہارت کے حصول کے لیے) پانی سے استنجاء کیا کرتے تھے، اور وہ پوری رات سو کر نہیں گزارتے تھے (بلکہ رات کے اوقات میں عبادت و ریاضت کیا کرتے تھے)۔“
اس روایت کی سند میں مذکور راوی ابو سورہ ضعیف ہے۔